ممتاز شیریں
![]() |
| Mumtaz Shirin |
ممتاز شیریں ۱۲ ستمبر ۱۹۲۴ ء کو ہندو پور، ضلع اننت پور، آندھرا پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد قاضی عبدالغفور سرکاری ملازم تھےاور ممتاز عالم بھی تھے، عربی اور فارسی زبان پر انھیں دسترس حاصل تھی ۔ ممتاز نے میسور میں اسکولی تعلیم حاصل کی اور بنگلور کے مہارانی کالج سے بی اے کیا۔ ان کی شادی صمد شاہین سے ہوئی جو میسور ہائی کورٹ میں وکیل تھے لیکن اچھی پریکٹس نہ چلنے کے سبب متبادل ذریعۂ معاش کی تلاش میں بنگلور منتقل ہوگئے، یہاں دونوں نے مل کر ادبی جریدہ نیا دور جاری کیا، اس رسالے نے جلد ہی ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنالی، اس کے پہلے شمارے میں ممتاز شیرین کا پہلا تنقیدی مقالہ شائع ہوا، کسی خاتون قلم کار کی اردو افسانے پر تنقیدی تحریر نے سبھی کو چونکا دیا۔ وہ اردو ادب کی اوّلین خاتون نقّاد مانی جاتی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہ خاندان کراچی منتقل ہوگیا وہیں سے ۱۹۵۲ ء تک نیا دور شائع کرتے رہے، ممتاز نے یہاں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اس وقت صمد شاہین کو ہالینڈ کی حکومت سے پی ایچ ڈی کے لئے اسکالر شپ حاصل ہوئی، ۱۹۵۴ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شریک ہوئیںہالینڈ اور انگلینڈ کے سفر کے دوران ممتاز شیریں کو مغربی ادب اور خصوصاً عالمی فکشن کے عمیق مطالعے کا موقع ملا، انھوں نے بنکاک، طہران، ترکی، لبنان، اور استنبول کا سفر بھی کیانیز آکسفورڈ یونیورسٹی سے ادب میں ایک مختصر کورس بھی کیا۔ انھوں نے کئی زبانیں سیکھیں جن میں اردو، انگلش، ہندی اور کنّڑ کے علاوہ فارسی فرانسسی اور ترکی شامل ہیں۔ پھر اسلام آباد میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ممتا ز شیریں نے فن افسانہ نگاری ،ترجمہ نگاری اور تنقید کے شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی تصانیف میں: اپنی نگریا، دیپک راگ، میگھ ملہار (افسانے)، جان اسٹیئن برگ کے ناول دی پرل کا اردو ترجمہ: دُرِّ شہوار، افسانوں کے تراجم: پاپ کی زندگی، تنقیدی مضامین کا مجموعہ: معیار، آزادی کے بعد کے افسانوں کا انتخاب: ظلمتِ نیم روز، انگلش میں تحریر کردہ کہانیاں: فُوٹ فالس ایکو، ان کے تحریر کردہ خطوط کا انتخاب، اور کچھ نا مکمل کتابیں جن میں بورس پاسترنیک اور ایمیلی برونٹے کے علاوہ ایک سفر نامہ بھی شامل ہے، ان کی سب سے زیادہ اہم کتاب منٹو۔ نوری نہ ناری ہے جس سے منٹو شناسی میں نئے باب کا آغاز ہوا۔ممتاز شیریں نے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر ۱۱ مارچ ۱۹۷۳ ء کو اسلام آباد میں انتقال کیا۔
تحریر ؛ حامد اقبال صدیقی

