Wednesday, May 3, 2017

Imtiyaz Ali taj

امتیاز علی تاج
Imtiyaz Ali taj
امتیاز علی تاج کا اصل نام سید امتیاز علی اور عرفیت تاج تھی، وہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، والد شمس العلما مولوی ممتاز علی کا وطنِ مالوف دیوبند تھا لیکن لاہور میں آبسے تھے جہاں انھوں نے دار الاشاعت پنجاب قائم کیا۔ تاج نے سینٹرل ماڈل اسکول لاہور سے میٹرک اور گورنمینٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد کے اشاعتی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھوں نے مولانا عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر ایک ادبی رسالہ کہکشاں جاری کیا اس دوران کئی انگریزی ڈراموں کے اردو تراجم کیے، انھیں اسٹیج کیا اور اداکاری بھی کی۔ ان کی والدہ محمدی بیگم جو خود بچوں کی معروف ادیبہ تھیں، ان کے جاری کردہ رسالہ تہذیبِ نسواں کی ادارت کی نیز والد کے جاری کردہ بچوں کے اخبار پھول کے مدیر بھی ہوئےجس میں ان کے شریکِ کار افسانہ نگار غلام عباس تھے۔ ۱۹۲۴ ء میں ان کا شاہکار ڈرامہ انارکلی شائع ہوا جس نے امتیاز علی تاج کو شہرتوں کے بام پر پہنچا دیا، اس نیم تاریخی ڈرامے کو بنیاد بنا کر ہند و پاک میں کئی فلمیں بھی بنیں۔ انھوں نے شیکسپئر کے ڈرامے اے مِڈ سمر نائٹ ڈریِم کا ترجمہ ساون رین کا سپنا کے نام سے کیا، امتیاز علی تاج نے چچا چھکن کا کردار تخلیق کیا اور اس پر کئی مزاحیہ خاکے لکھے، یہ خاکے اردو کے مزاحیہ ادب میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، چچاچھکن در اصل انگریزی مصنف جیروم کے کردار انکل پَوجر سے مماثل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور ریڈیو کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کیں، کچھ عرصہ آرٹ کونسل لاہور کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے کام کیا، مجلسِ ترقی ادب لاہور کے سکریٹری بھی مقرر ہوئے۔ انھوں نے ڈراما، ڈرامے کی تحقیق اور تنقید، افسانے، بچوں اور عورتوں کے لئے مضامین اور کہانیاں اور کئی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھےاور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ انھوں نے اردو ڈرامے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سو سے زائد تصانیف، تراجم اور تالیفات ہیں جن میں شاہجہاں، روشن آرا، سوت کا راگ، کمرہ نمبر ۵، گونگی جورو اور موت کا راگ وغیرہ شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز ایواڈ دیا اور وفات کے بعد ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ ۱۹ ۱پریل ۱۹۷۰ ء کی شب کسی نا معلوم شخص نے انھیں قتل کر دیا اور ان کی اہلیہ بیگم حجاب امتیاز علی بھی شدید زخمی ہوئیں۔ اردو ڈرامے پر امتیاز علی تاج کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

No comments:

Post a Comment