راشد الخیری
![]() |
| راشد الخیری |
راشد الخیری ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ اجداد میں ایک بزرگ ابو الخیر خیر اللہ تھے انہی کی نسبت سے خیری کہلائے۔ والد کا نام عبدالواجد تھا،بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، انھوں نے عربی اور فارسی گھر ہی میں پڑھی، پھر اینگلو عربک اسکول دہلی میں تعلیم مکمل کی، کچھ زمانے تک الطاف حسین حالی سے بھی پڑھتے رہے۔مختلف سرکاری ملازمتیں کیں لیکن جلد ہی اکتا کر مستعفی ہوگئے اور باقی زندگی ادبی کاموں کے لئے وقف کر دی۔ ناول نگاری میں انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد کا تتبع کیا اور عورتوں کی اصلاح و ترقی کے لئے قلم اٹھایا، گو کہ قدیم مشرقیت کے دلدادہ تھے لیکن بہت سی جدید تحریکات کے حامی بھی تھے، انھوں نے تعلیمِ نسواں پر زور دیا اور فرسودہ رسم ورواج اور توہمات پر تنقید کی۔ انھیں المیہ ناول اور افسانے لکھنے میں خاص مہارت حاصل تھی اسی لئے مصورِ غم کہلائے۔ ان کی تصنیفات میں شاہین و درّاج ، صبحِ زندگی ، شامِ زندگی ، شبِ زندگی ، نوحۂ زندگی ، بزمِ آخر ، نانی عشو ، جوہرِ عصمت ، ماہِ عجم ، محبوبِ خدا وند ، آمنہ کا لال ، عروسِ کربلا ، الزہرا ، سرابِ مغرب ، سمرنا کا چاند ، بنت الوقت ، اور حیاتِ صالح وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے خواتین کے لئے کئی رسائل جاری کئے جن میں عصمت ، سہیلی ، بنات اور جوہرِ نسواں قابلِ ذکر ہیں۔ راشد الخیرینے ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں وفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی



