Monday, May 1, 2017

Rashid ul Khairi

راشد الخیری
راشد الخیری
راشد الخیری ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ اجداد میں ایک بزرگ ابو الخیر خیر اللہ تھے انہی کی نسبت سے خیری کہلائے۔ والد کا نام عبدالواجد تھا،بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، انھوں نے عربی اور فارسی گھر ہی میں پڑھی، پھر اینگلو عربک اسکول دہلی میں تعلیم مکمل کی، کچھ زمانے تک الطاف حسین حالی سے بھی پڑھتے رہے۔مختلف سرکاری ملازمتیں کیں لیکن جلد ہی اکتا کر مستعفی ہوگئے اور باقی زندگی ادبی کاموں کے لئے وقف کر دی۔ ناول نگاری میں انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد کا تتبع کیا اور عورتوں کی اصلاح و ترقی کے لئے قلم اٹھایا، گو کہ قدیم مشرقیت کے دلدادہ تھے لیکن بہت سی جدید تحریکات کے حامی بھی تھے، انھوں نے تعلیمِ نسواں پر زور دیا اور فرسودہ رسم ورواج اور توہمات پر تنقید کی۔ انھیں المیہ ناول اور افسانے لکھنے میں خاص مہارت حاصل تھی اسی لئے مصورِ غم کہلائے۔ ان کی تصنیفات میں شاہین و درّاج ، صبحِ زندگی ، شامِ زندگی ، شبِ زندگی ، نوحۂ زندگی ، بزمِ آخر ، نانی عشو ، جوہرِ عصمت ، ماہِ عجم ، محبوبِ خدا وند ، آمنہ کا لال ، عروسِ کربلا ، الزہرا ، سرابِ مغرب ، سمرنا کا چاند ، بنت الوقت ، اور حیاتِ صالح وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے خواتین کے لئے کئی رسائل جاری کئے جن میں عصمت ، سہیلی ، بنات اور جوہرِ نسواں قابلِ ذکر ہیں۔ راشد الخیرینے ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں وفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Shad Azimabadi

شاد عظیم آبادی
Shad Azimabadi
شاد عظیم آبادی کا صل نام سید علی محمد تھا، وہ ۱۸۴۶ ء میں عظیم آباد ( پٹنہ ، بہار ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید اظہار حسین عرف عباس مرزا تھا جو الٰہ آباد کے رہنے والے تھے ۔ ابتدائی تعلیم بہت اچھی ہوئی تھی، ان کے اساتذہ میں میر تصدق حسین زخمی اور وزیر علی عبرتی تھے جن سے عروض اور ادبیات کی کتابیں پڑھیں اور انہی بزرگوں کو ابتدا میں اپنا کلام دکھاتے رہے پھر شاہ الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا جو بیک واسطہ خواجہ میر درد کے شاگرد تھے، اسلامی علوم کی تحصیل کے بعد عیسائی ، پارسی ، اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا اور کئی مفید کتابیں لکھیں۔ ۱۸۸۳ ء میں ایک اخبار بھی جاری کیا۔ ان کی علمی خدمات کے صلے میں انگریزی حکومت نے خان بہادر کا خطاب اور ایک ہزار روپے سالانہ وظیفہ جاری کیا۔ ۳۲ سال تک آنریری مجسٹریٹ رہے اور میونسپل کمشنر کے عہدے پر بھی کام کیا۔بڑے پر گو شاعر تھے، ایک لاکھ سے زائد اشعار کہے جن میں صرف غزل کے اشعار ہی کی تعداد تقریباً ۲۲ ہزار تھی، کلام میں توحید، فلسفہ اور اخلاق کا عنصر غالب ہے۔ مرثیہ گوئی میں انیس اور مونس کی پیروی کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً۶۰  ہے جن میں حیاتِ فریاد، نوائے وطن، ذکرِ بلیغ، مرثیہ گویاں، صورت الخیال ( بمعروف: ولایتی بیگم ، ناول )، نغمۂ الہام، الہاماتِ شاد، میخانۂ الہام، کلامِ شاد، کلیاتِ شاد، مثنوی : مادرِ ہنداور مسدس : ظہورِ رحمت شامل ہیں۔ کلیاتِ شادؔ تین حصوں میں اردو کے نامور ناقد کلیم الدین احمد نے ترتیب دے کر ۱۹۷۸ میں شائع کیا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے ۷ جنوری ۱۹۲۷ ء کووفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Aٓmir Khusro

امیر خسرو
Amir Khusro
اصل نام ابوالحسن اور لقب یمین الدولہ تھا ۔ والد سیف الدین محمد لاچین ترک سردار تھے ، منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی ( آگرہ ) میں سکونت اختیار کی، امیر خسرو ۱۲۵۳ ء میں یہیں پیدا ہوئے، والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہو گیا۔ امیر خسرو نے سلطنتِ دہلی ( خاندانِ غلامان ، خلجی اور تغلق ) کے آٹھ بادشاہوں کا دور دیکھااور درباروں میں خاصی اہمیت حاصل کی، اس عہد کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔ انھوں نے فارسی اور ہندوی زبان کی تمام مروّجہ اصنافِ سخن مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، دوہے ، کہہ مکرنیاں ، گیت ، دو سخنے ، اور پہیلیاں وغیرہ میں طبع آزمائی کی نیز انھیں ترکی ، عربی اور سنسکرت زبانوں میں بھی مہارت حاصل تھی۔ ان کی تصانیف میں پانچ دواوین تحفۃ الصغر ، وسط الحیات ، غرّۃالکمال ، بقیہ نقیہ اور نہایت الکمال کے علاوہ خمسۂ پنج گنج ، مفتاح الفتوح ، خزائن الفتوح ، قِران السعدین ، نہ سپہر ، خزائن الفتوح ، تاریخِ علائی ، تاریخِ دہلی ، اور دول رانی خضر خان وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے چار لاکھ سے زائد اشعار کہے۔ امیر خسرو کو فنِ موسیقی میں بھی کمال حاصل تھا، ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول ، قوالی ، قلبانہ اور راگنی ایمن کلیان انھی کی ایجاد ہے، ستار پر تیسرا تارانھوں نے ہی چڑھایا۔ حضرت نظام الدین اولیا رحمۃاللہ علیہ کے مریدِ خاص تھے، پیر و مرشد کے وصال کا صدمہ برداشت نہ ہوا اور صرف چھ ماہ بعد ۱۳۲۵ ء میں خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اردو شاعری اور خصوصاً غزل کی ابتدائی تشکیل میں خسرو سب سے اہم اور نمایاں نام ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی