میر امّن دہلوی
![]() |
| Bagh O Bahar by: Mir Amman |
میر امّن کا اصل نام میر امان تھا اور لطف تخلص کرتے تھے۔ وہ ۱۷۵۰ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد دربارِ مغلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے لیکن زمانے کی گردش اور دہلی پر نادر شاہ کے حملوں نے اس خاندان کے حالات بگاڑ دئے اور میر امّن کو بھی وطن چھوڑنا پڑا، انھوں نے کچھ مدت عظیم آباد ( پٹنہ ) قیام کیا پھر کلکتہ چلے گئے جہاں نواب دلاور جنگ کے بھائی میر محمد کاظم خاں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ میر بہادر علی حسینی میر منشی کی وساطت سے ڈاکٹر جان گلکرسٹ تک رسائی ہوئی اور فورٹ ولیم کالج کے شعبۂ تصنیف وتالیف میں ملازمت مل گئی، یہاں انھوں نے فارسی کی مشہور کتاب قصۂ چہار درویش کا اردو ترجمہ باغ و بہار کے نام سے کیا۔ یہ کتاب ۱۸۰۳ ء میں کالج سے شائع ہوئی ، سلیس اور ٹکسالی زبان کے سبب جلد ہی اس کتاب کا شمار اردو کی مقبول ترین کتابوں میں ہونے لگا، اسی دوران اسے رومن رسم الخط میں بھی شائع کیا گیاپھر کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ میر امّن کو سلیس اور با محاورہ اردو نثر کا بانی کہا جا سکتا ہے اور مذکورہ کتاب اردو فکشن کے ابتدائی نقوش کی تشکیل میں اوّلیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر گلکرسٹ کی فرمائش پر انھوںنے مُلا حسین واعظ کاشفی کی تصنیف اخلاقِ محسنی کا ترجمہ گنجِ خوبی کے نام سے کیا۔ انھوں نے ۱۸۳۷ ء میں کلکتہ میں وفات پائی، ان کی تاریخِ پیدائش اور وفات میں اختلاف ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی



