Wednesday, May 3, 2017

Mir Amman

میر امّن دہلوی
Bagh O Bahar by: Mir Amman
میر امّن کا اصل نام میر امان تھا اور لطف تخلص کرتے تھے۔ وہ ۱۷۵۰ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد دربارِ مغلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے لیکن زمانے کی گردش اور دہلی پر نادر شاہ کے حملوں نے اس خاندان کے حالات بگاڑ دئے اور میر امّن کو بھی وطن چھوڑنا پڑا، انھوں نے کچھ مدت عظیم آباد ( پٹنہ ) قیام کیا پھر کلکتہ چلے گئے جہاں نواب دلاور جنگ کے بھائی میر محمد کاظم خاں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ میر بہادر علی حسینی میر منشی کی وساطت سے ڈاکٹر جان گلکرسٹ تک رسائی ہوئی اور فورٹ ولیم کالج کے شعبۂ تصنیف وتالیف میں ملازمت مل گئی، یہاں انھوں نے فارسی کی مشہور کتاب قصۂ چہار درویش کا اردو ترجمہ باغ و بہار کے نام سے کیا۔ یہ کتاب ۱۸۰۳ ء میں کالج سے شائع ہوئی ، سلیس اور ٹکسالی زبان کے سبب جلد ہی اس کتاب کا شمار اردو کی مقبول ترین کتابوں میں ہونے لگا، اسی دوران اسے رومن رسم الخط میں بھی شائع کیا گیاپھر کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ میر امّن کو سلیس اور با محاورہ اردو نثر کا بانی کہا جا سکتا ہے اور مذکورہ کتاب اردو فکشن کے ابتدائی نقوش کی تشکیل میں اوّلیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر گلکرسٹ کی فرمائش پر انھوںنے مُلا حسین واعظ کاشفی کی تصنیف اخلاقِ محسنی کا ترجمہ گنجِ خوبی کے نام سے کیا۔ انھوں نے ۱۸۳۷ ء میں کلکتہ میں وفات پائی، ان کی تاریخِ پیدائش اور وفات میں اختلاف ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Imtiyaz Ali taj

امتیاز علی تاج
Imtiyaz Ali taj
امتیاز علی تاج کا اصل نام سید امتیاز علی اور عرفیت تاج تھی، وہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، والد شمس العلما مولوی ممتاز علی کا وطنِ مالوف دیوبند تھا لیکن لاہور میں آبسے تھے جہاں انھوں نے دار الاشاعت پنجاب قائم کیا۔ تاج نے سینٹرل ماڈل اسکول لاہور سے میٹرک اور گورنمینٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد کے اشاعتی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھوں نے مولانا عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر ایک ادبی رسالہ کہکشاں جاری کیا اس دوران کئی انگریزی ڈراموں کے اردو تراجم کیے، انھیں اسٹیج کیا اور اداکاری بھی کی۔ ان کی والدہ محمدی بیگم جو خود بچوں کی معروف ادیبہ تھیں، ان کے جاری کردہ رسالہ تہذیبِ نسواں کی ادارت کی نیز والد کے جاری کردہ بچوں کے اخبار پھول کے مدیر بھی ہوئےجس میں ان کے شریکِ کار افسانہ نگار غلام عباس تھے۔ ۱۹۲۴ ء میں ان کا شاہکار ڈرامہ انارکلی شائع ہوا جس نے امتیاز علی تاج کو شہرتوں کے بام پر پہنچا دیا، اس نیم تاریخی ڈرامے کو بنیاد بنا کر ہند و پاک میں کئی فلمیں بھی بنیں۔ انھوں نے شیکسپئر کے ڈرامے اے مِڈ سمر نائٹ ڈریِم کا ترجمہ ساون رین کا سپنا کے نام سے کیا، امتیاز علی تاج نے چچا چھکن کا کردار تخلیق کیا اور اس پر کئی مزاحیہ خاکے لکھے، یہ خاکے اردو کے مزاحیہ ادب میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، چچاچھکن در اصل انگریزی مصنف جیروم کے کردار انکل پَوجر سے مماثل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور ریڈیو کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کیں، کچھ عرصہ آرٹ کونسل لاہور کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے کام کیا، مجلسِ ترقی ادب لاہور کے سکریٹری بھی مقرر ہوئے۔ انھوں نے ڈراما، ڈرامے کی تحقیق اور تنقید، افسانے، بچوں اور عورتوں کے لئے مضامین اور کہانیاں اور کئی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھےاور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ انھوں نے اردو ڈرامے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سو سے زائد تصانیف، تراجم اور تالیفات ہیں جن میں شاہجہاں، روشن آرا، سوت کا راگ، کمرہ نمبر ۵، گونگی جورو اور موت کا راگ وغیرہ شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز ایواڈ دیا اور وفات کے بعد ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ ۱۹ ۱پریل ۱۹۷۰ ء کی شب کسی نا معلوم شخص نے انھیں قتل کر دیا اور ان کی اہلیہ بیگم حجاب امتیاز علی بھی شدید زخمی ہوئیں۔ اردو ڈرامے پر امتیاز علی تاج کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Ehsan Danish

احسان دانش
Ehsan Danish
احسان دانش قصبہ کاندھلہ ضلع مظفر نگر میں ۱۹۱۴ ء میںپیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نام احسان الحق تھا‘ والد کا نام دانش علی تھا اسی مناسبت سے اپنا نام احسان دانش لکھتے تھے۔ ان کے والد نہروں کی کھدائی کرنے والے ٹھیکیداروں کے ساتھ بطور مزدور کام کرتے تھے۔ دانش کا بچپن انتہائی غربت اور تنگدستی میں گزرا۔ ۱۹۲۷ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم تو حاصل نہ کر سکے تاہم اردو، فارسی اور عربی زبان کا اپنے طور پر مطالعہ کرتے رہے۔ کچھ عرصہ ایک دفتر میں ملازمت کی پھر ایک بیوپاری کی دکان پر کام کیا مگر والد کے کہنے پر ان کے ساتھ مزدوروں میں شامل ہو گئے۔ کاندھلہ سے لاہورہجرت کے بعد پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی تعمیر میں بطور مزدور کام کیا۔ کچھ عرصہ اسی جگہ چوکیداری بھی کرتے رہے پھر ایک دکان میں منشی ہو گئے۔ انھوں نے ہر طرح کی مزدوری کی اور اپنی زندگی کے شب و روز انتہائی محنت و مشقت میں گزارے۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آخر کار احسان دانش نے لاہور کے ایبک روڈ پر ’’مکتبہ دانش‘‘ کے نام سے کتب خانہ قائم کیا اور آخر وقت تک اسی سے وابستہ رہے۔احسان دانش شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھتے تھے ان کے شعری مجموعوں میں حدیثِ ادب، دردِ زندگی، تفسیرِ فطرت، آتشِ خاموش، نوائے کارگر، شیرازہ، چراغاں اور گورستان کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے لسانیات میں لغات الاصلاح، دستور اردو، تذکیر و تانیث اور اردو مترادفات یادگار چھوڑیں، احسان دانش کی خودنوشت سوانح جہان دانش بھی علمی اور ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہے اس کتاب کو پاکستان رائٹرز گلڈ نے آدم جی ادبی انعام کا مستحق قرار دیا ۔حکومت پاکستان نے آپ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات بھی عطا کیے تھے ۔احسان دانش نے ۲۲مارچ ۱۹۸۲ءکو لاہور میں وفات پائی۔
تحریر: حامد اقبال صدیقی