Wednesday, May 3, 2017

Ehsan Danish

احسان دانش
Ehsan Danish
احسان دانش قصبہ کاندھلہ ضلع مظفر نگر میں ۱۹۱۴ ء میںپیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نام احسان الحق تھا‘ والد کا نام دانش علی تھا اسی مناسبت سے اپنا نام احسان دانش لکھتے تھے۔ ان کے والد نہروں کی کھدائی کرنے والے ٹھیکیداروں کے ساتھ بطور مزدور کام کرتے تھے۔ دانش کا بچپن انتہائی غربت اور تنگدستی میں گزرا۔ ۱۹۲۷ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم تو حاصل نہ کر سکے تاہم اردو، فارسی اور عربی زبان کا اپنے طور پر مطالعہ کرتے رہے۔ کچھ عرصہ ایک دفتر میں ملازمت کی پھر ایک بیوپاری کی دکان پر کام کیا مگر والد کے کہنے پر ان کے ساتھ مزدوروں میں شامل ہو گئے۔ کاندھلہ سے لاہورہجرت کے بعد پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی تعمیر میں بطور مزدور کام کیا۔ کچھ عرصہ اسی جگہ چوکیداری بھی کرتے رہے پھر ایک دکان میں منشی ہو گئے۔ انھوں نے ہر طرح کی مزدوری کی اور اپنی زندگی کے شب و روز انتہائی محنت و مشقت میں گزارے۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آخر کار احسان دانش نے لاہور کے ایبک روڈ پر ’’مکتبہ دانش‘‘ کے نام سے کتب خانہ قائم کیا اور آخر وقت تک اسی سے وابستہ رہے۔احسان دانش شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھتے تھے ان کے شعری مجموعوں میں حدیثِ ادب، دردِ زندگی، تفسیرِ فطرت، آتشِ خاموش، نوائے کارگر، شیرازہ، چراغاں اور گورستان کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے لسانیات میں لغات الاصلاح، دستور اردو، تذکیر و تانیث اور اردو مترادفات یادگار چھوڑیں، احسان دانش کی خودنوشت سوانح جہان دانش بھی علمی اور ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہے اس کتاب کو پاکستان رائٹرز گلڈ نے آدم جی ادبی انعام کا مستحق قرار دیا ۔حکومت پاکستان نے آپ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات بھی عطا کیے تھے ۔احسان دانش نے ۲۲مارچ ۱۹۸۲ءکو لاہور میں وفات پائی۔
تحریر: حامد اقبال صدیقی

No comments:

Post a Comment