امیر خسرو
![]() |
| Amir Khusro |
اصل نام ابوالحسن اور لقب یمین الدولہ تھا ۔ والد سیف الدین محمد لاچین ترک سردار تھے ، منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی ( آگرہ ) میں سکونت اختیار کی، امیر خسرو ۱۲۵۳ ء میں یہیں پیدا ہوئے، والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہو گیا۔ امیر خسرو نے سلطنتِ دہلی ( خاندانِ غلامان ، خلجی اور تغلق ) کے آٹھ بادشاہوں کا دور دیکھااور درباروں میں خاصی اہمیت حاصل کی، اس عہد کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔ انھوں نے فارسی اور ہندوی زبان کی تمام مروّجہ اصنافِ سخن مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، دوہے ، کہہ مکرنیاں ، گیت ، دو سخنے ، اور پہیلیاں وغیرہ میں طبع آزمائی کی نیز انھیں ترکی ، عربی اور سنسکرت زبانوں میں بھی مہارت حاصل تھی۔ ان کی تصانیف میں پانچ دواوین تحفۃ الصغر ، وسط الحیات ، غرّۃالکمال ، بقیہ نقیہ اور نہایت الکمال کے علاوہ خمسۂ پنج گنج ، مفتاح الفتوح ، خزائن الفتوح ، قِران السعدین ، نہ سپہر ، خزائن الفتوح ، تاریخِ علائی ، تاریخِ دہلی ، اور دول رانی خضر خان وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے چار لاکھ سے زائد اشعار کہے۔ امیر خسرو کو فنِ موسیقی میں بھی کمال حاصل تھا، ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول ، قوالی ، قلبانہ اور راگنی ایمن کلیان انھی کی ایجاد ہے، ستار پر تیسرا تارانھوں نے ہی چڑھایا۔ حضرت نظام الدین اولیا رحمۃاللہ علیہ کے مریدِ خاص تھے، پیر و مرشد کے وصال کا صدمہ برداشت نہ ہوا اور صرف چھ ماہ بعد ۱۳۲۵ ء میں خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اردو شاعری اور خصوصاً غزل کی ابتدائی تشکیل میں خسرو سب سے اہم اور نمایاں نام ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی


No comments:
Post a Comment