شاد عظیم آبادی
![]() |
| Shad Azimabadi |
شاد عظیم آبادی کا صل نام سید علی محمد تھا، وہ ۱۸۴۶ ء میں عظیم آباد ( پٹنہ ، بہار ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید اظہار حسین عرف عباس مرزا تھا جو الٰہ آباد کے رہنے والے تھے ۔ ابتدائی تعلیم بہت اچھی ہوئی تھی، ان کے اساتذہ میں میر تصدق حسین زخمی اور وزیر علی عبرتی تھے جن سے عروض اور ادبیات کی کتابیں پڑھیں اور انہی بزرگوں کو ابتدا میں اپنا کلام دکھاتے رہے پھر شاہ الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا جو بیک واسطہ خواجہ میر درد کے شاگرد تھے، اسلامی علوم کی تحصیل کے بعد عیسائی ، پارسی ، اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا اور کئی مفید کتابیں لکھیں۔ ۱۸۸۳ ء میں ایک اخبار بھی جاری کیا۔ ان کی علمی خدمات کے صلے میں انگریزی حکومت نے خان بہادر کا خطاب اور ایک ہزار روپے سالانہ وظیفہ جاری کیا۔ ۳۲ سال تک آنریری مجسٹریٹ رہے اور میونسپل کمشنر کے عہدے پر بھی کام کیا۔بڑے پر گو شاعر تھے، ایک لاکھ سے زائد اشعار کہے جن میں صرف غزل کے اشعار ہی کی تعداد تقریباً ۲۲ ہزار تھی، کلام میں توحید، فلسفہ اور اخلاق کا عنصر غالب ہے۔ مرثیہ گوئی میں انیس اور مونس کی پیروی کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً۶۰ ہے جن میں حیاتِ فریاد، نوائے وطن، ذکرِ بلیغ، مرثیہ گویاں، صورت الخیال ( بمعروف: ولایتی بیگم ، ناول )، نغمۂ الہام، الہاماتِ شاد، میخانۂ الہام، کلامِ شاد، کلیاتِ شاد، مثنوی : مادرِ ہنداور مسدس : ظہورِ رحمت شامل ہیں۔ کلیاتِ شادؔ تین حصوں میں اردو کے نامور ناقد کلیم الدین احمد نے ترتیب دے کر ۱۹۷۸ میں شائع کیا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے ۷ جنوری ۱۹۲۷ ء کووفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی


No comments:
Post a Comment