Thursday, May 4, 2017

Mumtaz Shirin

ممتاز شیریں
Mumtaz Shirin
ممتاز شیریں ۱۲ ستمبر ۱۹۲۴ ء کو ہندو پور، ضلع اننت پور، آندھرا پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد قاضی عبدالغفور سرکاری ملازم تھےاور ممتاز عالم بھی تھے، عربی اور فارسی زبان پر انھیں دسترس حاصل تھی ۔ ممتاز نے میسور میں اسکولی تعلیم حاصل کی اور بنگلور کے مہارانی کالج سے بی اے کیا۔ ان کی شادی صمد شاہین سے ہوئی جو میسور ہائی کورٹ میں وکیل تھے لیکن اچھی پریکٹس نہ چلنے کے سبب متبادل ذریعۂ معاش کی تلاش میں بنگلور منتقل ہوگئے، یہاں دونوں نے مل کر ادبی جریدہ نیا دور جاری کیا، اس رسالے نے جلد ہی ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنالی، اس کے پہلے شمارے میں ممتاز شیرین کا پہلا تنقیدی مقالہ شائع ہوا، کسی خاتون قلم کار کی اردو افسانے پر تنقیدی تحریر نے سبھی کو چونکا دیا۔ وہ اردو ادب کی اوّلین خاتون نقّاد مانی جاتی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہ خاندان کراچی منتقل ہوگیا وہیں سے ۱۹۵۲ ء تک نیا دور شائع کرتے رہے، ممتاز نے یہاں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اس وقت صمد شاہین کو ہالینڈ کی حکومت سے پی ایچ ڈی کے لئے اسکالر شپ حاصل ہوئی، ۱۹۵۴ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شریک ہوئیںہالینڈ اور انگلینڈ کے سفر کے دوران ممتاز شیریں کو مغربی ادب اور خصوصاً عالمی فکشن کے عمیق مطالعے کا موقع ملا، انھوں نے بنکاک، طہران، ترکی، لبنان، اور استنبول کا سفر بھی کیانیز آکسفورڈ یونیورسٹی سے ادب میں ایک مختصر کورس بھی کیا۔ انھوں نے کئی زبانیں سیکھیں جن میں اردو، انگلش، ہندی اور کنّڑ کے علاوہ فارسی فرانسسی اور ترکی شامل ہیں۔ پھر اسلام آباد میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ممتا ز شیریں نے فن افسانہ نگاری ،ترجمہ نگاری اور تنقید کے شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی تصانیف میں: اپنی نگریا، دیپک راگ، میگھ ملہار (افسانے)، جان اسٹیئن برگ کے ناول دی پرل کا اردو ترجمہ: دُرِّ شہوار، افسانوں کے تراجم: پاپ کی زندگی، تنقیدی مضامین کا مجموعہ: معیار، آزادی کے بعد کے افسانوں کا انتخاب: ظلمتِ نیم روز، انگلش میں تحریر کردہ کہانیاں: فُوٹ فالس ایکو، ان کے تحریر کردہ خطوط کا انتخاب، اور کچھ نا مکمل کتابیں جن میں بورس پاسترنیک اور ایمیلی برونٹے کے علاوہ ایک سفر نامہ بھی شامل ہے، ان کی سب سے زیادہ اہم کتاب منٹو۔ نوری نہ ناری ہے جس سے منٹو شناسی میں نئے باب کا آغاز ہوا۔ممتاز شیریں نے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر ۱۱ مارچ ۱۹۷۳ ء کو اسلام آباد میں انتقال کیا۔
تحریر ؛ حامد اقبال صدیقی

Wednesday, May 3, 2017

Mir Amman

میر امّن دہلوی
Bagh O Bahar by: Mir Amman
میر امّن کا اصل نام میر امان تھا اور لطف تخلص کرتے تھے۔ وہ ۱۷۵۰ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد دربارِ مغلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے لیکن زمانے کی گردش اور دہلی پر نادر شاہ کے حملوں نے اس خاندان کے حالات بگاڑ دئے اور میر امّن کو بھی وطن چھوڑنا پڑا، انھوں نے کچھ مدت عظیم آباد ( پٹنہ ) قیام کیا پھر کلکتہ چلے گئے جہاں نواب دلاور جنگ کے بھائی میر محمد کاظم خاں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ میر بہادر علی حسینی میر منشی کی وساطت سے ڈاکٹر جان گلکرسٹ تک رسائی ہوئی اور فورٹ ولیم کالج کے شعبۂ تصنیف وتالیف میں ملازمت مل گئی، یہاں انھوں نے فارسی کی مشہور کتاب قصۂ چہار درویش کا اردو ترجمہ باغ و بہار کے نام سے کیا۔ یہ کتاب ۱۸۰۳ ء میں کالج سے شائع ہوئی ، سلیس اور ٹکسالی زبان کے سبب جلد ہی اس کتاب کا شمار اردو کی مقبول ترین کتابوں میں ہونے لگا، اسی دوران اسے رومن رسم الخط میں بھی شائع کیا گیاپھر کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ میر امّن کو سلیس اور با محاورہ اردو نثر کا بانی کہا جا سکتا ہے اور مذکورہ کتاب اردو فکشن کے ابتدائی نقوش کی تشکیل میں اوّلیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر گلکرسٹ کی فرمائش پر انھوںنے مُلا حسین واعظ کاشفی کی تصنیف اخلاقِ محسنی کا ترجمہ گنجِ خوبی کے نام سے کیا۔ انھوں نے ۱۸۳۷ ء میں کلکتہ میں وفات پائی، ان کی تاریخِ پیدائش اور وفات میں اختلاف ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Imtiyaz Ali taj

امتیاز علی تاج
Imtiyaz Ali taj
امتیاز علی تاج کا اصل نام سید امتیاز علی اور عرفیت تاج تھی، وہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، والد شمس العلما مولوی ممتاز علی کا وطنِ مالوف دیوبند تھا لیکن لاہور میں آبسے تھے جہاں انھوں نے دار الاشاعت پنجاب قائم کیا۔ تاج نے سینٹرل ماڈل اسکول لاہور سے میٹرک اور گورنمینٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد کے اشاعتی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں انھوں نے مولانا عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر ایک ادبی رسالہ کہکشاں جاری کیا اس دوران کئی انگریزی ڈراموں کے اردو تراجم کیے، انھیں اسٹیج کیا اور اداکاری بھی کی۔ ان کی والدہ محمدی بیگم جو خود بچوں کی معروف ادیبہ تھیں، ان کے جاری کردہ رسالہ تہذیبِ نسواں کی ادارت کی نیز والد کے جاری کردہ بچوں کے اخبار پھول کے مدیر بھی ہوئےجس میں ان کے شریکِ کار افسانہ نگار غلام عباس تھے۔ ۱۹۲۴ ء میں ان کا شاہکار ڈرامہ انارکلی شائع ہوا جس نے امتیاز علی تاج کو شہرتوں کے بام پر پہنچا دیا، اس نیم تاریخی ڈرامے کو بنیاد بنا کر ہند و پاک میں کئی فلمیں بھی بنیں۔ انھوں نے شیکسپئر کے ڈرامے اے مِڈ سمر نائٹ ڈریِم کا ترجمہ ساون رین کا سپنا کے نام سے کیا، امتیاز علی تاج نے چچا چھکن کا کردار تخلیق کیا اور اس پر کئی مزاحیہ خاکے لکھے، یہ خاکے اردو کے مزاحیہ ادب میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، چچاچھکن در اصل انگریزی مصنف جیروم کے کردار انکل پَوجر سے مماثل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور ریڈیو کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کیں، کچھ عرصہ آرٹ کونسل لاہور کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے کام کیا، مجلسِ ترقی ادب لاہور کے سکریٹری بھی مقرر ہوئے۔ انھوں نے ڈراما، ڈرامے کی تحقیق اور تنقید، افسانے، بچوں اور عورتوں کے لئے مضامین اور کہانیاں اور کئی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھےاور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ انھوں نے اردو ڈرامے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سو سے زائد تصانیف، تراجم اور تالیفات ہیں جن میں شاہجہاں، روشن آرا، سوت کا راگ، کمرہ نمبر ۵، گونگی جورو اور موت کا راگ وغیرہ شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز ایواڈ دیا اور وفات کے بعد ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ ۱۹ ۱پریل ۱۹۷۰ ء کی شب کسی نا معلوم شخص نے انھیں قتل کر دیا اور ان کی اہلیہ بیگم حجاب امتیاز علی بھی شدید زخمی ہوئیں۔ اردو ڈرامے پر امتیاز علی تاج کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Ehsan Danish

احسان دانش
Ehsan Danish
احسان دانش قصبہ کاندھلہ ضلع مظفر نگر میں ۱۹۱۴ ء میںپیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نام احسان الحق تھا‘ والد کا نام دانش علی تھا اسی مناسبت سے اپنا نام احسان دانش لکھتے تھے۔ ان کے والد نہروں کی کھدائی کرنے والے ٹھیکیداروں کے ساتھ بطور مزدور کام کرتے تھے۔ دانش کا بچپن انتہائی غربت اور تنگدستی میں گزرا۔ ۱۹۲۷ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم تو حاصل نہ کر سکے تاہم اردو، فارسی اور عربی زبان کا اپنے طور پر مطالعہ کرتے رہے۔ کچھ عرصہ ایک دفتر میں ملازمت کی پھر ایک بیوپاری کی دکان پر کام کیا مگر والد کے کہنے پر ان کے ساتھ مزدوروں میں شامل ہو گئے۔ کاندھلہ سے لاہورہجرت کے بعد پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی تعمیر میں بطور مزدور کام کیا۔ کچھ عرصہ اسی جگہ چوکیداری بھی کرتے رہے پھر ایک دکان میں منشی ہو گئے۔ انھوں نے ہر طرح کی مزدوری کی اور اپنی زندگی کے شب و روز انتہائی محنت و مشقت میں گزارے۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آخر کار احسان دانش نے لاہور کے ایبک روڈ پر ’’مکتبہ دانش‘‘ کے نام سے کتب خانہ قائم کیا اور آخر وقت تک اسی سے وابستہ رہے۔احسان دانش شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھتے تھے ان کے شعری مجموعوں میں حدیثِ ادب، دردِ زندگی، تفسیرِ فطرت، آتشِ خاموش، نوائے کارگر، شیرازہ، چراغاں اور گورستان کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے لسانیات میں لغات الاصلاح، دستور اردو، تذکیر و تانیث اور اردو مترادفات یادگار چھوڑیں، احسان دانش کی خودنوشت سوانح جہان دانش بھی علمی اور ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہے اس کتاب کو پاکستان رائٹرز گلڈ نے آدم جی ادبی انعام کا مستحق قرار دیا ۔حکومت پاکستان نے آپ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات بھی عطا کیے تھے ۔احسان دانش نے ۲۲مارچ ۱۹۸۲ءکو لاہور میں وفات پائی۔
تحریر: حامد اقبال صدیقی

Monday, May 1, 2017

Rashid ul Khairi

راشد الخیری
راشد الخیری
راشد الخیری ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ اجداد میں ایک بزرگ ابو الخیر خیر اللہ تھے انہی کی نسبت سے خیری کہلائے۔ والد کا نام عبدالواجد تھا،بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، انھوں نے عربی اور فارسی گھر ہی میں پڑھی، پھر اینگلو عربک اسکول دہلی میں تعلیم مکمل کی، کچھ زمانے تک الطاف حسین حالی سے بھی پڑھتے رہے۔مختلف سرکاری ملازمتیں کیں لیکن جلد ہی اکتا کر مستعفی ہوگئے اور باقی زندگی ادبی کاموں کے لئے وقف کر دی۔ ناول نگاری میں انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد کا تتبع کیا اور عورتوں کی اصلاح و ترقی کے لئے قلم اٹھایا، گو کہ قدیم مشرقیت کے دلدادہ تھے لیکن بہت سی جدید تحریکات کے حامی بھی تھے، انھوں نے تعلیمِ نسواں پر زور دیا اور فرسودہ رسم ورواج اور توہمات پر تنقید کی۔ انھیں المیہ ناول اور افسانے لکھنے میں خاص مہارت حاصل تھی اسی لئے مصورِ غم کہلائے۔ ان کی تصنیفات میں شاہین و درّاج ، صبحِ زندگی ، شامِ زندگی ، شبِ زندگی ، نوحۂ زندگی ، بزمِ آخر ، نانی عشو ، جوہرِ عصمت ، ماہِ عجم ، محبوبِ خدا وند ، آمنہ کا لال ، عروسِ کربلا ، الزہرا ، سرابِ مغرب ، سمرنا کا چاند ، بنت الوقت ، اور حیاتِ صالح وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے خواتین کے لئے کئی رسائل جاری کئے جن میں عصمت ، سہیلی ، بنات اور جوہرِ نسواں قابلِ ذکر ہیں۔ راشد الخیرینے ۱۸۶۸ ء میں دہلی میں وفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Shad Azimabadi

شاد عظیم آبادی
Shad Azimabadi
شاد عظیم آبادی کا صل نام سید علی محمد تھا، وہ ۱۸۴۶ ء میں عظیم آباد ( پٹنہ ، بہار ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید اظہار حسین عرف عباس مرزا تھا جو الٰہ آباد کے رہنے والے تھے ۔ ابتدائی تعلیم بہت اچھی ہوئی تھی، ان کے اساتذہ میں میر تصدق حسین زخمی اور وزیر علی عبرتی تھے جن سے عروض اور ادبیات کی کتابیں پڑھیں اور انہی بزرگوں کو ابتدا میں اپنا کلام دکھاتے رہے پھر شاہ الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا جو بیک واسطہ خواجہ میر درد کے شاگرد تھے، اسلامی علوم کی تحصیل کے بعد عیسائی ، پارسی ، اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا اور کئی مفید کتابیں لکھیں۔ ۱۸۸۳ ء میں ایک اخبار بھی جاری کیا۔ ان کی علمی خدمات کے صلے میں انگریزی حکومت نے خان بہادر کا خطاب اور ایک ہزار روپے سالانہ وظیفہ جاری کیا۔ ۳۲ سال تک آنریری مجسٹریٹ رہے اور میونسپل کمشنر کے عہدے پر بھی کام کیا۔بڑے پر گو شاعر تھے، ایک لاکھ سے زائد اشعار کہے جن میں صرف غزل کے اشعار ہی کی تعداد تقریباً ۲۲ ہزار تھی، کلام میں توحید، فلسفہ اور اخلاق کا عنصر غالب ہے۔ مرثیہ گوئی میں انیس اور مونس کی پیروی کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً۶۰  ہے جن میں حیاتِ فریاد، نوائے وطن، ذکرِ بلیغ، مرثیہ گویاں، صورت الخیال ( بمعروف: ولایتی بیگم ، ناول )، نغمۂ الہام، الہاماتِ شاد، میخانۂ الہام، کلامِ شاد، کلیاتِ شاد، مثنوی : مادرِ ہنداور مسدس : ظہورِ رحمت شامل ہیں۔ کلیاتِ شادؔ تین حصوں میں اردو کے نامور ناقد کلیم الدین احمد نے ترتیب دے کر ۱۹۷۸ میں شائع کیا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے ۷ جنوری ۱۹۲۷ ء کووفات پائی۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی

Aٓmir Khusro

امیر خسرو
Amir Khusro
اصل نام ابوالحسن اور لقب یمین الدولہ تھا ۔ والد سیف الدین محمد لاچین ترک سردار تھے ، منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی ( آگرہ ) میں سکونت اختیار کی، امیر خسرو ۱۲۵۳ ء میں یہیں پیدا ہوئے، والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہو گیا۔ امیر خسرو نے سلطنتِ دہلی ( خاندانِ غلامان ، خلجی اور تغلق ) کے آٹھ بادشاہوں کا دور دیکھااور درباروں میں خاصی اہمیت حاصل کی، اس عہد کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔ انھوں نے فارسی اور ہندوی زبان کی تمام مروّجہ اصنافِ سخن مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، دوہے ، کہہ مکرنیاں ، گیت ، دو سخنے ، اور پہیلیاں وغیرہ میں طبع آزمائی کی نیز انھیں ترکی ، عربی اور سنسکرت زبانوں میں بھی مہارت حاصل تھی۔ ان کی تصانیف میں پانچ دواوین تحفۃ الصغر ، وسط الحیات ، غرّۃالکمال ، بقیہ نقیہ اور نہایت الکمال کے علاوہ خمسۂ پنج گنج ، مفتاح الفتوح ، خزائن الفتوح ، قِران السعدین ، نہ سپہر ، خزائن الفتوح ، تاریخِ علائی ، تاریخِ دہلی ، اور دول رانی خضر خان وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے چار لاکھ سے زائد اشعار کہے۔ امیر خسرو کو فنِ موسیقی میں بھی کمال حاصل تھا، ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول ، قوالی ، قلبانہ اور راگنی ایمن کلیان انھی کی ایجاد ہے، ستار پر تیسرا تارانھوں نے ہی چڑھایا۔ حضرت نظام الدین اولیا رحمۃاللہ علیہ کے مریدِ خاص تھے، پیر و مرشد کے وصال کا صدمہ برداشت نہ ہوا اور صرف چھ ماہ بعد ۱۳۲۵ ء میں خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اردو شاعری اور خصوصاً غزل کی ابتدائی تشکیل میں خسرو سب سے اہم اور نمایاں نام ہے۔
تحریر : حامد اقبال صدیقی